طلاق کے بعد زندگی انتہائی پرسکون ہوگئی ہے: کرن اشفاق

معروف پاکستانی اداکار عمران اشرف کی سابق اہلیہ اور ماڈل کرن اشفاق کا کہنا ہے کہ طلاق کے بعد ان کی زندگی انتہائی پرسکون ہوچکی ہے، ان سے نہیں عمران سے پوچھا جائے کہ طلاق کیوں ہوئی۔
اداکار عمران اشرف کی سابق اہلیہ ماڈل و اداکارہ کرن اشفاق نے پہلی بار طلاق کے بعد مداحوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سوال کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ طلاق کا سبب ان سے نہیں بلکہ ان کے سابق شوہر سے معلوم کیا جائے۔

عمران اشرف اور کرن اشفاق نے اکتوبر 2022 میں طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجوہات نہیں بتائی تھیں۔
دونوں نے 2018 میں شادی کی تھی اور ان کے ہاں 2020 میں بیٹے روہان کی پیدائش ہوئی تھی۔
دونوں میں کبھی اختلافات کی خبریں سامنے نہیں آئی تھیں جبکہ ان کا شمار رومانوی جوڑیوں میں ہوتا تھا اور ان کی طلاق ہوجانے پر ان کے مداح حیران رہ گئے تھے۔
طلاق کے بعد جہاں عمران اشرف اپنی معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آئے، وہیں ان کی سابق اہلیہ کرن اشفاق نے بھی اپنی سرگرمیاں شروع کردیں۔
حال ہی میں کرن اشفاق نے انسٹاگرام پر مداحوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے پہلی بار طلاق اور اس کے بعد کی زندگی پر بھی کھل کر بات کی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طلاق کے بعد ان کی زندگی انتہائی پرسکون ہوچکی ہے۔
ایک مداح نے ان سے پوچھا کہ ان کی طلاق کا سبب کیا تھا، وہ تو انہیں مثالی جوڑا سمجھتے تھے؟ جس پر کرن اشفاق نے جواب دیا کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔
ایک مداح نے پوچھا کہ انہوں نے سابق شوہر کے ساتھ کھنچوائی گئی تمام تصاویر انسٹاگرام سے کیوں ڈیلیٹ کیں جب کہ عمران اشرف نے کوئی تصویر ڈیلیٹ نہیں کی؟
اس پر کرن اشفاق نے جواب دیا کہ عمران اشرف کے انسٹاگرام پر ان کی 10 سے 12 تصاویر ہی ہوں گی جب کہ ان کا پورا اکاؤنٹ تصاویر سے بھرا پڑا تھا، جس وجہ سے انہیں ڈیلیٹ کرنی پڑیں۔
ایک مداح نے ان سے پوچھا کہ عمران اشرف ہمیشہ ٹی وی انٹرویوز میں کہتے تھے کہ کرن اشفاق ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں، وہ ان سے شادی کے بعد ہی مشہور ہوئے۔
اس پر کرن اشفاق نے کہا کہ پھر لوگ انہیں یہ طعنے کیوں دیتے ہیں کہ انہوں نے ایک نامور شخص سے شادی کی اور صرف شہرت کو ہی دیکھا۔
ایک مداح نے ان سے پوچھا کہ عمران اشرف اتنے اچھے ہیں، انہوں نے ان سے طلاق کیوں لی؟ اس پر کرن اشفاق نے کہا کہ وہ عمران اشرف سے پوچھیں کہ انہوں نے کرن اشفاق کو طلاق کیوں دی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top