شرح سود اور ڈالر کی قدر میں اضافے کی پالیسی سے ملکی قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ‘شرح سود بڑھا

راچی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود 17 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کے اعلان پر ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط کو مانتے ہوئے سٹاف لیول معاہدے سے قبل شرح سود کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بحال ہوسکے. وفاقی حکومت اس سے قبل بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت آئی ایم ایف کی متعدد شرائط مان لی ہیں قرض پروگرام کی بحالی کے لیے عوام پر 170 ارب روپے کے ٹیکسوں کا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال آئی ایم ایف پروگرام بحال نہیں ہوسکا، وزارت خزانہ نے امریکہ کو بھی شکایت کی ہے کہ آئی ایم ایف کا رویہ انتہائی سخت ہے.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top